تعلیم و تربیت کی راہ میں بنت الہدی کی خدمات

تعلیم و تربیت کی راہ میں بنت الہدی کی خدمات

گل چہرہ جوادی
کارشناسی ارشد فقہ تربیتی مجتع آموزش بنت الہدیٰ۔قم

شہیدہ بنت الہدی ان شخصیات میں سے ایک ہیں جو عصر حاضر کی مسلم خواتین کے لیے ایک نمایاں رول ماڈل ہیں چنانچہ اسی پہلو کے پیش نظر ان کی شخصیت خصوصا تعلیمی طریقوں کے بارے میں آگاہی ضروری ہے۔مجتہدہ، عالمہ شہید بنت الہدیٰ، جہاں الہٰی فکر کا علمبردار، نئی نسل کی معلمہ اور بیداری کی مشعل فروزاں ہیں وہاں روشن خیالی، بخشش اور عمل صالح کا بھی سرچشمہ دکھائی دیتی ہے۔ ا نہوں نے نہ صرف دینی تعلیم ، کانفرنسوں وجلسات کے انعقاد، تصنیف کتب کے ذریعے لوگوں کے عقائد اور ذہنوں کی تعمیر کی بلکہ اسکے ساتھ اپنے منفرد اخلاق کے ذریعے خواتین کی مذہبی، فکری اور روحانی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد فراہم کی جس کے نتیجے میں انہوں نے خواتین کے ذہنوں میں اسلامی تصورات اور مذہبی احکام کو اجاگر کرکے اپنے آپکو ایک نمونہ، مشعل اور نیکی اور روشن خیالی کے ایک ابلتے چشمے کے طور پر پیش کیا۔بنت الہدیٰ صدر اپنے عظیم بھائی سید محمد باقر صدر کی رہنمائی کے طفیل، تمام شعبوں بالخصوص درس و تدریس کے میدان میں ابھر کر سامنے آگئی۔

ان کی قابل ذکر سرگرمیوں میں کتابیں ، مضامین ، الزہراسکولوں کا قیام، خواتین کے لیے مذہبی مجالس کا انعقاد،تدریس،دعائیہ نشستوں کا انعقاد، مذہبی رسومات کی طرف جھکاو اور خواتین کے لئے در پیش مذہبی مسائل کا حل وغیرہ شامل ہیں۔چنانچہ اس مضمون میں تعلیمی میدان میں ان کی سرگرمیوں کی جانب اختصارکےساتھ اشارہ کرنے کی کوشش کئی گئی ہے۔
شہيده بنت الہدی کی علمی خدمات
بنت الہدی کی علمی،تبلیغی کوششوں اور خدمات کے مختلف مراحل تھے جن میں سے اہم ترین کا یہاں مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے:
الزہرہااسکولوں اور بعض ثقافتی مراکز کا قیام
سیدہ شاہدہ ،بغداد، کاظمیہ اور نجف میں اسلامک چیریٹی فنڈ سے منسلک الزہرا اسکولوں کے بانیوں میں سے ایک تھیں۔ اس تعلیمی کمپلیکس کے قیام کاایک مقصد محض تعلیمی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ اگر چہ عراق میں موجود سرکاری اسکولوں میں طالبات کو پڑھایا جاتا تھا، لیکن دیگر ضروریات بھی ان اسکولوں کے قیام کا باعث بنیں۔ضروریات میں سےا ہم مادی ثقافت کافروغ تھا جس کی وجہ سے جو بدعنوانی اور اخلاقی انحراف معاشرے میں پھیل گیا تھا جس کا مقابلہ اسلامی ثقافت کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کے ذریعے کرکے خواتین کی حالت بہتر ہو سکتی تھی۔ بلاشبہ ان سکولوں کے پاس بہترین طریقے تھے جن کے ذریعے پڑھی لکھی خواتین کے لیے اصلاح کے لیے موقع فراہم کی جاتا تھا جو وقت کے تقاضوں اور طلبہ کی خواہشات کے عین مطابق تھا۔ ان اسکولوں کے قیام کے لیے حکومت کی منظوری حاصل کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ جو مضامین سرکاری اسکولوں میں پڑھائے جاتے تھےان اسکولوں میں بھی پڑھائے جائیں، یہاں کے فارغ التحصیل طلباء کو ان اسکولوں میں اپنی تعلیم جاری رکھنے سے روکا نہیں گیا بلکہ ان مواد میں اسلامی نظریاتی اور تعلیمی نصاب کے دیگر مواد کو بھی شامل کیا گیا۔
الزہرا سکول کی ڈائریکٹرمحترمہ سیدلی اس حوالے سے کہتی ہیں:
“اخلاقی بدعنوانی کے فروغ سے نمٹنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ لڑکیوں کی جدید تعلیم اور تربیت پر توجہ دی جائے، اور یہ کام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسلامی اسکولوں کے قیام کو اصل مقصد کے لیے وقف کیے جائیں اور اس سلسلے میں مسلم خواتین کی حقیقی شناخت بحال کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
شہید بنت الہدی نے ان سرکاری اسکولوں کو قائم کرنے کے لیے بہت کوششیں کیں جو کہ حکومتی قوانین کے ماتحت تھے، ان اسکولوں میں لڑکیوں کی تعلیم میں دو سے زیادہ مضامین کا اضافہ کیا۔اور ایک شیعہ خاتون ٹیچر جو علمی طور پر قابل تھیں۔ خصوصی وظائف اور اسلامی رسوم و رواج کے پابند تھی، آپ نے انہیں لڑکیوں کا رول ماڈل مقرر کیا اور ان اسکولوں کا نام “الزہرا اسکول” رکھا۔ بغداد اور کاظمیہ بھی ان مکاتب کے مراکز بنے۔ ان کمپلیکس میں کنڈرگارٹن، پرائمری اور نرسری سکول شامل تھے۔ اس سلسلے میں ان کی ایک اہم سرگرمی ان اسکولوں کے اساتذہ کو ثقافتی اور بامقصد اسلامی تعلیم دینا تھی، جنہیں اسکول کے اوقات کے بعد لازمی طور پر پڑھایا جاتاتھا۔
سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں، ان اسکولوں نے وزارت کے قومی امتحانات میں بہت سی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں،اور لوگوں نے اس قدر استقبال کیا کہ وہ ان میں داخلے کے لیے قطار میں کھڑے ہو گئے۔آپ ہفتے میں تین دن مناسب اسکولوں میں حاضری دیتی اور تین دن نجف اشرف کے تربیتی مراکز کا دورہ کرتی تھیں۔آخر کار بنت الہدیٰ کی جدوجہد رنگ لائی اور کمترین امکانات کے باوجود بابرکت نتائج حاصل ہوئے۔
“یہ دیکھنا خوش قسمتی کی بات ہے کہ برطانیہ اور خلیج فارس میں الزہرااسکول کے فارغ التحصیل افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، اور یہ خوشی کا باعث ہے کہ وہ اس شہیدہ کی خواہش کو پورا کرنے میں کامیاب رہے ہیں، اور مجھے امید ہے کہ انکی کوششیں مزید بھی رنگ لائیں گی۔ اس سلسلے میں انہوں نے مزید کہا۔ “جو اس اسکول میں پلے بڑھے وہ مجاہدین کی مائیں اور مجاہدہ بیویاں بنیں۔
شہیدہ بنت الہدی کی تالیفات
بنت الہدی اپنے مقاصد اور روشن خیالی کے حصول کے لیے کہانی کے استعمال میں ایک شاندار اور ماہر مصنفہ تھیں۔اس حوالے سے انہیں خواتین کی رہنما قرار دی جاسکتی ہے، اس لیے کہ نجف (حالانکہ یہ مدرسہ اور مذہبی اتھارٹی کا مرکز تھا)میں ہم شہید بنت الہدیٰ سے پہلے کسی خاتون مسلمان مصنفہ کو نہیں جانتے۔تاہم یہ خاتون سادہ زیست تھی، اور اس کا مقصد کبھی شہرت ا کاحصول نہیں تھا، اور جو کچھ ہم ان کے بارے میں جانتے ہیں، اس کے مطابق وہ کبھی کبھی اپنی کتابوں کو نظر انداز کر دیتی تھیں۔ گویا یہ کتابیں اس کی نہیں ، کبھی یہ نہیں سنا گیا کہ وہ ان کتابوں پر فخر کرتی، یا اپنے آپ کو تعریف وتمجید کے لیے پیش کرتی، بلکہ ان کا مقصد اسلام کی خدمت اور اسلامی بیداری کی کوشش تھی۔جو چیز اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے وہ قلمی نام “بنت الہدی” تھا جسے شہیدہ آمنہ صدر نے اپنے لیے منتخب کیا تھا۔ وہ شہرت اور ذاتی محبت سے بچنا چاہتی تھی۔ جب کہ اس کا اصلی نام درج کرنے میں کسی طرح کوئی مشکل بھی نہیں تھی۔
شہید بنت الہدی نے اپنے مضامین الأضواء میگزین میں شائع کرنا شروع کیا۔جس سلسلہ علماء کے ایک گروپ نے قائم کیا تھا۔ آپ کے مضامین ایمان میگزین میں بھی شائع ہوتے تھے جو شیخ موسیٰ یعقوبی مرحوم شائع کرتے تھے۔انہوں نے اپنی تحریر میں کمال حاصل کیا اور آپ کے مضامین میں ایک طرح کی جدت پائی جاتی تھی گویا ایک نئی روح تھی جو مضامین میں رواں تھی اور مسائل کے حل کے لیے واضح سوچ اورراہ حل شامل تھا اور دکھاوے اور شہرت کے حصول سے بالکل پاک تھے۔
تدریس اور دعائیہ نشستوں کا انعقاد
سیدہ شہیدہ بنت الہدیٰ،درس و تدریس میں بہت آگے تھیں ، اور “تعلیم” ان کی کاوشوں کی ایک مثال تھی۔ علمی راہ میں ، بنت الہدی کے لیے مختلف مسائل در پیش تھے؛ دوسری چیزوں کے علاوہ، مدرسے کی نصابی کتابیں اکثر تدریس کے لیے نہیں لکھی جاتی تھیں اس وجہ سے وضاحت کیلئے ایک واضح طریقہ کارکی ضرورت تھی.۔ کورسز کی تدریس میں ایک اور مسئلہ ان کتابوں کی ناقص پرنٹنگ اور تحریروں میں بے ترتیبی تھی ۔اس کے علاوہ، مختلف شعبوں میں نصاب کی ایک الگ نوعیت اور خاص اصطلاحات پائی جاتی تھیں ، اور اسی وجہ سے عام لوگوں کے لیے کسی قابل استاد سے مشورہ کیے بغیر انہیں سمجھنا اورسمجھانا عموماً ممکن نہیں ہوتا۔
شہید بنت الہدیٰ اپنے دو بھائیوں مرحوم سید اسماعیل صدر اور شہید سید باقرالصدر سے قربت کی وجہ سے ان تمام مسائل پر عبور رکھتی تھیں اور مدرسہ کے علمی مواد سے ان کا ماحول، خاص طور پر فقہی اور اصولی مواد نے اس قابل بنادیا تھا کہ اس نے اپنے گھر میں جو تدریسی حلقے بنائے ان سے بنت الہدی کا اصل مقصد نہ صرف طالبات کی تعلیم و تربیت کرنا تھا بلکہ اسے مستقبل میں ا ایسے ایک راستے کو جاری رکھنے کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار کرنا اور ان میں ایسی علمی صلاحیت پیدا کرنا تھا جو مستقبل میں خواتین کے لیےمدارس کے قیام ،اسلامی ثقافت اور تعلیمات کو پھیلانے کیلئے زمینہ ساز ہو۔
تدریس کے علاوہ، شہید بنت الہدی نے ایک عمومی مذہبی ثقافتی مہم کا اہتمام کیا جس میں اسلامی فکر کو دور حاضر کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق میں پیش کیا۔آپ نے اس میدان میں ایک بے مثال کامیابی حاصل کی اور خواتین کے مختلف طبقوں نے اس کا خیر مقدم کیا تھا۔ آپ نے بعض اوقات خواتین کے افکار، صلاحیتوں اور ذہنی سطح کو مدنظر رکھ کر اپنے خیالات کااظہار کیا ۔انہوں نے شادی کے موقع پر منعقد ہونے والی محفلوں کی نوعیت پر غور کیا تاکہ اس طرح کی محفلیں اسلامی اخلاق اور رسم و رواج کے عین مطابق ہوں جس کے نتیجے میں اسلام میں شادی کی حقیقت اور اس کے مقاصد کو سمجھنے کا ایک اچھا موقع فراہم ہو اور آپ نے ضروری سمجھا کہ جوڑے میں اعلیٰ اخلاق، مکمل ہم آہنگی اور مادی چیزوں کی کوئی فکر نہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ خوشی کی فطری شکل پر توجہ دی جائے جو ان رشتوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔
شہید بنت الہدی کا دل،اللہ کے مقدس گھر کے مشاہدے کی آرزو رکھتا تھا جو مکہ اور مدینہ کی مقدس سرزمین میں موجود تھا۔ جب حج کے ایام آئے تو ان کے وجود میں ایک عجیب ولولہ اور خوشی کی کیفیت طاری ہو گئی۔شہید بنت الہدیٰ، حج کے دوران بغداد اور کاظمیہ سے نکلنے والے قافلوں میں سے ایک میں روحانی کاروان کے طور پر حج پر جاتی تھیں۔ حج کے ایام میں وہ خواتین کو حج کے مسائل اور احکام سکھاتی تھیں اور چونکہ وہ فقہی نقطہ نظر سے ہر مجتہد کے فتویٰ کے مطابق ہر مقلد کی دینی ضرورت کو پورا کرتی تھیں۔ اگر اسے کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہوتا جس کا تذکرہ کتابوں میں نہ ملے تووہ اپنے بھائی آیت اللہ صدر سے دریافت کرتی تھی۔
نتیجہ:
بنت الہدی صدر نے اپنے علم، عمل، عاجزی اور اخلاق کی بدولت بہت سے نوجوانوں کو راہ راست پر لانے اور بہت سے آزاد منش افراد کو دین اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرایا۔سید محمد باقر صدر نے ان کے بچپن اور جوانی میں ان کی شخصیت، افکار کی تشکیل اور خواتین کے تعلیمی اور سماجی امور کے لیے تحریریں اور مضامین لکھنے اور ذمہ دار بننے کی ترغیب دینے میں اہم کردار ادا کیا۔وہ بغداد، نجف، کاظمین، بصرہ اور دیوانیہ میں الزہرااسلامی اسکولوں کے بانیوں میں سے ایک تھیں۔ ان اسکولوں کے قیام کا مقصد مسلمان لڑکیوں کو اسلامی نہج اور طریقے پر تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنا تھا۔ بنت الہدی جس نے ہمیشہ شہید سید محمد باقر صدر کے ساتھ مل کر اسلام کو زندہ رکھنے کے لیے جدوجہد کی ۔ ان کی ثقافتی اور مذہبی سرگرمیوں میں نجف اور کاظمین کے الزہرا اسکولوں کی نگرانی، گھروں میں اسلامی نشستوں کا انعقاد، الاضوامیگزین میں مضامین ، افسانے ور مذہبی نظمیں لکھنا شامل ہیں۔
حوالہ جات
1 ۔کتاب الشہیدة بنت الہدی سیرتها و مسیرتها، الشیخ محمدرضا نعمانی، مؤسسه اسماعیلیان، تاریخ نشر، 1378، ه. ش، 1420 ه. ق.
2. روزنامه بطلة النجف، ص 45.
3. بنت الهدی، سایت رحماء.
4. الحسون، محمد و مشکور، ام‌علی، اعلام النساء المؤمنات، تهران، انتشارات اسوه، چاپ اول، ۱۴۱۱ق.
5. مجله بانوان شیعه، شماره ۳ (با تلخیص)
6. روزنامه قدس