شہید باقر الصدر اور کتاب “آزمائش”

شہید باقر الصدر اور کتاب “آزمائش”

✍️ عارف بلتستانی

کسی بھی انقلاب کا محرک کسی ایک مُصلِح کی سوچ ہوا کرتی ہے۔ اس شخصیت کی یہی سوچ دنیا میں ہلچل مچا دیتی ہے۔ یہی سوچ انسانوں میں بیداری لے کر آتی ہے۔ یہی بیداری سبب بنتی ہے ظلم کا تختہ الٹ دے۔ ظلم کی دنیا میں اس طرح کی سوچ رکھنے والوں کی سزا یا تو سر قلم کرنا ہے یا ملک بدر کرنا ہے۔ اہل معرفت اس سوچ کی حامل شخصیت کو مجدد یا مصلح کے نام سے پہچانتے ہیں، جو نظاموں میں ایک تحول ایجاد کرتی ہے

اس قسم کی سوچ رکھنے والی دو ایسی شخصیات تاریخ میں گزری ہیں کہ جو ہم عصر بھی ، دوست بھی، فقیہ بھی، مجدد بھی اور اپنے زمانے میں مصلح بھی رہی ہیں۔ ساتھ ایک دوسرے کا مکمِّل بھی رہی ہیں۔ ایک نے پچیس سو سالہ ظالم شہنشاہیت کو نیست و نابود کیا تو دوسرے نے کپیٹلزم اور کمیونزم کو ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ ایک کو اس ظالم دنیا نے ملک بدر کر دیا جبکہ دوسرے کا سر قلم کر دیا۔ یہ دونوں شخصیات کوئی اور نہیں بلکہ روح اللہ الخمینی الموسوی اور محمد باقر الصدر تھے۔ یہ دونوں شخصیات فقیہ، مجتہد، عارف، مبارز، محقق، ادیب اور شہادت پرور شخصیات تھے۔

یہاں راقم کا مدنظر شہید باقر الصدر ہیں جو کم سنی میں ہی علمی مراحل طے کر کے چودہ سال کی عمر میں درجہ اجتہاد تک پہنچ چکے تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں بہت سختیاں جھیلی ہیں۔ بہت سخت آزمائشات میں مبتلاء ہوئے ہیں، کیونکہ آزمائش میں مبتلاء ہونا اہلِ درد کی علامت ہے۔ خود “آزمائش” درد کا سمندر ہے۔ جس میں وہی تیر سکتا ہے جو اہل درد ہو۔ اہل درد کبھی خود غرض نہیں ہو سکتا۔ وہ تو انسانیت کی بھلائی چاہتا ہے۔ جس کو شہید صدر علیہ الرحمہ نے آفاقی شعور و ادراک کے نام سے یاد کیا ہے۔ خود شہید علیہ الرحمہ کی ذات اس شعور و ادراکِ آفاقی کا مجسم تھے۔

آپ اہل درد کی خاصیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “وہ اپنی ذاتی مصلحتوں کو قوم کے بڑے مفادات کےلئے قربان کرنے کا احساس بھی رکھتا ہے اور سلیقہ بھی” ؛ کیوں کہ اہل درد کا محور و مرکز خدا کی ذات ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے یہی چیز ہمارے اندر موجود نہیں ہے۔ اس مرکز سے جڑنے کےلئے ہمیں ہمہ وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرنا چاہئیے۔ اس طرح آپ نے اپنے شاگردوں کی تربیت کی کہ نظریاتی ابحاث(تھیوری) کو بہترین انداز میں عملی شکل میں مجسم (پریکٹکل) کر کے دکھایا۔

کتاب “آزمائش” (جو کہ دو تقریروں کا مجموعہ ہے) میں آپ نے قرآن میں جس آزمائش کی بات ہوئی ہے اس کے بارے میں مفصل گفتگو کی ہے۔ ایک انسان بالخصوص طالب علم کو کمال تک پہنچنے کےلئے کن آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ کیسے ان آزمائشوں میں کامیابی حاصل کر کے رشد و کمال کی طرف سفر کر سکتا ہے؟ ہر انسان، خصوصاً ہر طالب علم جو رشد حاصل کرنا چاہتا ہے اور کمال کی طرف سفر کرنا چاہتا ہے اسے اس کتاب کا حتما مطالعہ کرنا چاہئیے۔ یہ کتاب طالب علم کو رشد کی طرف لے جانے کا بہترین اور معتمد ترین ساتھی ہے۔ یہ کتاب مخلص دوست کی طرح غلطیوں کی نشاندھی کرواتی ہے پھر رہنمائی کرتی ہے۔ انسان کی زندگی میں کتاب سے بڑھ کر کوئی دوست نہیں ہے، ورنہ خدا وند عالم بشریت کی ہدایت کےلئے رُسُل کے ساتھ کتاب نہیں بھیجتا۔