مکتب صدر کی کامیابی میں شہیدہ بنت الہدیٰ کا کردار

مکتب صدر کی کامیابی میں شہیدہ بنت الہدیٰ کا کردار

شگفتہ زہرا عابد شگری
ایم فل اسکالر، شہیدہ بنت الہدیٰ یونیورسٹی(قم)

مقدمہ
خلقت کائنات کا مقصد جہاں خداوند متعال کی قدرت کا اظہار، معارف الہی کا پرچاراور عبودیت پروردگار کو بیان کرنا ہے وہیں پر مخلوقات میں سے انسان کا تعارف اور ان میں سے صالح و غیر صالح افراد کا تعین کرنا بھی ہےکیونکہ اسی وجہ سے جنت اور جہنم کو بنایا گیا۔ انسان دوجنسیت پر مشتمل ہیں: مرد اور عورت۔ ان دونوں کے درمیان برتری کا فیصلہ صرف تقویٰ الہیٰ کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت اللہ کی عظیم رحمت و نعمت ہے جس کے بغیریہ جہاں اور مرد نامکمل ہیں۔ اگر تاریخ اسلام کے اوراق کو پلٹا جائے تو مختلف اقوام میں ، مختلف قسم کی خواتین کی مثالیں موجود ہیں جن میں کچھ ایسی خواتین ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اسلامی دستورات کے تحت بسر کی اور دوسروں کے لئے اپنی زندگی کو اسوہ حسنہ کے طور پر پیش کیا۔ عصر حاضر کی خاتون شہید محمد باقر صدر کی ہمشیرہ شہیدہ بنت الہدیٰ بھی انہیں میں شامل ہیں جن کا شمار اس زمانے کی عظیم و بافضیلت خواتین میں ہوتا ہے۔جنہوں نے اپنی فکری، علمی، سیاسی اور تربیتی استعداد سے شجاعانہ انداز میں اپنے وقت کے ظالم حکمران کو جھنجھوڑا اور ایسا علمی وعملی کردار ادا کیا کہ تمام خواتین کے لئے نمونہ عمل بن گئیں۔ اگرچہ آپ کی شخصیت آج بھی بہت سوں کے نزدیک پوشیدہ ہے یا بعض آپ کو صرف شہید باقر صدر کی بہن اور ان کے ساتھ شہید ہونے کے عنوان سے جانتے ہیں درحالیکہ مکتب شہید صدر کی کامیابی میں شہیدہ بنت الہدیٰ کا کردار بہت اہم رہا ہے۔
شہیدہ بنت الہدیٰ صدر
آمنہ سادات صدر ؁۱۳۵۷ ہجری قمری میں عراق کے شہر کاظمین کے ایک دیندار گھرانہ میں پیدا ہوئیں۔آپ کے والد سید حیدر صدر اور دو بھائی سید اسماعیل اور سید محمد باقر تھے۔ یہ گھرانہ متقی اور جہادی گھرانہ تھا۔ کم سنی میں والد کے سایہ سے محرومیت کی وجہ سے آپ کی پرورش اور تربیت دونوں بھائیوں کی نگرانی میں ہوئی۔ خصوصا سید محمد باقر صدر سے آپ بہت متاثر تھیں۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ شہید باقر صدر آپ کے سب سے بڑے استاد تھے۔آمنہ صدر دینی ،ثقافتی اور تبلیغی امور میں شرکت کیا کرتی تھیں۔ خاص طور پر خواتین سے مربوط مسائل پرتوجہ دیتی تھیں کیونکہ آپ معاشرتی سرگرمیوں میں خواتین کے مسائل اور ان کی ذمہ داریوں سے خوب آگاہ تھیں اسی وجہ سے اپنے ہی گھر میں خواتین کے لئے جلسات کا اہتمام کرنا اور مختلف امور میں ان کی حوصلہ افزائی کرنا آپ کے اہم کاموں میں سے ایک تھا۔
شہیدہ بنت الہدیٰ معاصر مفکرین کی نگاہ میں
آمنہ سادات صدر کی شخصیت اگرچہ بہت سوں کی نظر سے پوشیدہ ہے لیکن عصر حاضر کے روشن فکر مفکرین جو ان کی شخصیت ، کردار اور سرگرمیوں سے آگاہی رکھتے ہیں، انھوں نے شہیدہ کے کردار اور فعالیتوں کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے کہ جس کو سننے یا پڑھنے سے دوسرے افراد ان کی شخصیت سے آشنا ہوجاتے ہیں۔ بنت الہدیٰ کے حوالے سے چند معاصر مفکرین کے نظریات درج ذیل ہیں:
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
آیت اللہ شہید محمد باقر صدر اور ان کی مظلوم ہمشیرہ دونوں علم و اخلاق کے مدرّس اور علم و ادب کے مفاخر میں سے تھےجنہیں عراق کی زوال پذیر حکومت نے انتہائی بے رحمانہ روش سے شہید کیا۔ شہادت ایسا ارث ہے جو ان عزیزوں کو ان کے اپنے محسنوں سے ملی۔ بالکل اسی طرح ظلم و ستم بھی ظالموں کو ان کے جابر سرپرستوں سے وراثت میں ملتی ہے۔ان ہستیوں کا سخت ترین شکنجوں تلے شہید ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ، تعجب اس وقت ہے کہ مجاہدین اسلام راہ حق میں بستر پر مرجائیں۔۱
رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای دامت برکاتہ فرماتے ہیں:
اگر کوئی گھرانہ اپنی بیٹی کی درست تربیت کرے تو وہ باعظمت انسان بنے گی۔ آج کے دور میں ایسی با عظمت بیٹیاں ایران میں بھی ہیں اور ایران سے باہر بھی، جن میں سے ایک جوان، شجاع، ہنرمند، عالمانہ فکر کی حامل خاتون شہید باقر صدر کی بہن “بنت الہدیٰ” ہیں جنہوں نے تیرہویں صدی ہجری میں عراق کی تاریخ کو اپنی شخصیت اور کردار سے متاثر کیا اور سرانجام شہادت کے درجہ پر فائز ہوئیں۔ بنت الہدیٰ جیسی خاتون کی عظمت کسی بھی عظیم و با فضیلت انسان سے کم نہیں، ان کی حرکت زنانہ تھی اور ان کے بھائی کی حرکت مردانہ لیکن حقیقتا دونوں کی کاوشیں کمالات و مقاصد کے حصول اور ان دونوں شخصیات کے جوہر کی نشاندہی کرتی ہیں۔۲
شیخ محمد رضا نعمانی کہتے ہیں:
حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے نسب سے موجود خاتون آمنہ (بنت الہدیٰ) صدر کے بارے میں گفتگو کرنا آسان نہیں کیونکہ وہ ایسی خصوصیات کی حامل تھیں جو انھیں اپنے زمانے سے بھی آگے لے گیا۔ میں جس حد تک ان کی شخصیت سے واقف ہوں وہ ایک استثنائی شخصیت کی مالک تھیں۔ میرا یہ کہنا کہ بنت الہدیٰ مظہر ہیں تو یہ صرف شہیدہ کے ظاہری احترام اور ان سے وفاداری کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے بارے میں میرے وسیع علم و آگاہی کی وجہ سے میں انھیں مظہر سمجھتا ہوں۔۳
سید حسین صدر کہتے ہیں:
مجاہدہ بنت الہدیٰ فکر اسلامی کی علمبردار، نسلوں کی مدرّس،روشن فکری ، عمل صالح اور لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کا سرچشمہ تھیں۔ انھوں نے نہ صرف تدریس، کانفرنس اور تالیفات سے لوگوں کے عقائد اور افکار کی اصلاح کی بلکہ اپنے رفتار حسنہ سےخواتین کو اپنی طرف مجذوب کیا۔ خواتین کی حمایت، تربیت اور ان کی دینی، فکری اور معنوی ضروریات کو پورا کیا اور انھیں مفاہیم اسلامی اور احکام شرعی سے آگاہ کیا۔ آپ خیر وبرکت کا تابناک اسوہ عمل تھیں۔۴
نجیب اللہ نوری کہتے ہیں:
شہیدہ بنت الہدیٰ کی شخصیت عصر حاضر کی خواتین کے لئے بہترین نمونہ عمل ہے اور ان کی پاکیزہ سیرت ، شخصیت کے مختلف پہلو، تلاش و جستجوتربیت کے لئے ضروری ہے۔ ۵
مکتب صدر کی کامیابی میں شہیدہ بنت الہدیٰ کا کردار
سیدمحمد باقر صدر(رہ)ایک کامل اور جامع شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے مختلف فکری اور عملی میدانوں میں خود کو منوایا۔ تاریخ میں بہت کم ایسے مفکر پائے گئے ہیں۔ آپ کی کل زندگی ۴۷ برس سے زیادہ نہیں تھی۔ اس مختصر سی زندگی میں تالیف وتصنیف، تحقیق اور قیادت جیسے تمام فرائض انجام دیے۔ اسلامی تحریک کی بنیادوں کو محکم کرنے میں محمد باقر صدر کا اہم کردار اور عالم اسلام بالاخص عراق کی دوفکری اور عملی جہتوں میں اس تحریک کی بنیاد رکھنے میں ان کا عظیم کردار ناقابل تردید ہے۔ ۶ البتہ مکتب شہید صدر کی کامیابی میں ان کی بہن شہیدہ بنت الہدیٰ نےکیا کردار ادا کیا؟؟اس شیردل خاتون نے کس طرح مختلف امور میں اپنے بھائی کی مدد کی ؟اور کیسے افکار شہید صدر کی تبلیغ و ترویج کی؟ ان سوالوں کے جوابات کے لئے مکتب شہید صدر کی خصوصیات کو بیان کیا جائے گا۔
۱۔ خدا کی حکمرانی کے تحت انسانی آزادی
إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ۷
خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کو تبدیل نہ کرلے۔
شہید صدر کی نگاہ میں حاکم مطلق خداوند متعال کی ذات ہے اس نے انسان کو آزاد و خود مختار خلق کیا ہے البتہ انسان کی آزادی سے مراد یہ ہے کہ انسان کی آزادی حاکمیت پروردگار پر منحصر اور استوار ہے ۔جس طرح دوسروں کو انسان پر تسلط حاصل کرنے کا حق نہیں اسی طرح خود انسان کو بھی ذاتی طور پر یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود کو خدا کی حکمرانی سے مکمل آزاد سمجھے۔ حاکمیت الہیٰ کو قبول کرنا نہ صرف انسان کی آزادی کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ اس آزادی کے لئے لازم ہے۔۸ کیونکہ سیدہ آمنہ کی تربیت سیدباقر صدر کی زیر کفالت ہوئی، شہیدہ کے نظریات شہید صدر کے نظریات کے مشابہ تھے۔ آپ بھی اپنے بھائی کی طرح روشن فکر کی مالک اور اس بات کی معتقد تھیں کہ انسان کی آزادی حاکمیت پروردگار پر منحصر اور استوار ہے۔آپ کا ہر عمل اللہ تبارک و تعالیٰ کی خشنودی و رضا کے لئے تھا اور زندگی کے میدان میں خود کو خداوند کے سایہ تلے محسوس کرتی تھیں۔
۲۔ شاگردوں کی تربیت
شہادت کے وقت شہید صدر کی عمر مبارک ۴۷ برس سے زیادہ نہیں تھی اور اس مختصر سی زندگی میں تالیف وتصنیف، تحقیق اور قیادت جیسے تمام فرائض انجام دیے، آپ نے ۲۰ سال کی عمر میں کتاب کفایۃ الاصول کی تدریس کا آغاز کیا اور چند سال بعد اصول اور فقہ کی تدریس شروع کی اور بہترین شاگردوں کی تربیت کی۔ آپ کے مشہور شاگردوں میں سید محمدباقر حکیم، سید محمدباقر مُھری، سید کاظم حسینی حائری اور محمدرضا نعمانی ہیں۔ ایک طرف شہید صدر تدریس اور شاگردوں کی تربیت میں مشغول تھے تو دوسری طرف آمنہ بنت الہدیٰ بھی ایک دینی مدرسہ کی سرپرست تھیں، مدرسے میں شاگردوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ وہ مدرسہ کی چھٹی کے بعد اساتید کی تربیت میں بھی وقت صرف کرتی تھیں اور بعد از ظہر کا وقت انہوں نے طالبات کے سوالوں کے جوابات سے مخصوص کر رکھا تھا۔۹ وہ مجالس کا انعقاد بھی کرواتیں جس میں وہ مذہبی لیکچرز پیش کرتیں اور یہ لیکچرز زیادہ تر وہ اپنے بھائی شہید محمد باقر الصدر کے گھر منعقد کرواتیں جہاں پچاس سے زائد خواتین اکٹھی ہوتیں ۔ وہ ان خواتین کے سوالات کا جواب دیتیں جو کہ عموما مختلف نظریات، اسلامی عقائد اور اسلامی فقہ سے متعلق ہوتے تھے۔
۳۔حکومت اسلامی اور روحانی شعور کی بیداری
امت مسلمہ کی رہنمائی ، اصلاح اور ان کی مشکلات کی چارہ سازی سید باقر صدر کا مخصوص شعار تھا ،قومی سطح پر انقلابی اقدامات آپ کے مزاج میں شامل اور آپ کے اہداف میں سے ایک تھا ۔ شہید صدر کی نظر میں حکومت کا وجود ایک سماجی ضرورت ہے اور یہ انسانی فطرت پر مبنی ہےاور وہ اس نظریہ کی بنیاد پر حکومت اسلامی کے وجود کو ضروری اور لازمی سمجھتے تھے۔
شہید صدر کہتے ہیں:
اسلامی حکومت محض ایک دینی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس سے بڑھ کر وہ ایک بشری و انسانی معاشرے اور تمدن کی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلامی حکومت ہی ہے کہ جو انسانی و بشری استعداد کے ارتقاء کا واحد راستہ ہے۔۱۰
شہیدہ بنت الہدٰی اپنے گھر میں اسلامی سیمینارز کا انعقاد کرواتیں جس میں وہ مختلف حقائق اور تصورات سے پردہ اٹھاتیں خصوصا مغربی دنیا کی فریب و طمع کاری پر جو کہ عراق کی خواتین میں تیزی سے مقبول ہورہی تھی۔ اسی طرح وہ معاشرے میں نظریاتی تبدیلیاں لائیں جو کہ معاشرے میں اصلاحات کی بنیاد بنیں۔ حتیٰ جب شہیدہ کو گرفتار کر لیا گیااس وقت بھی آپ کے جملات یہ تھے: تم لوگوں نے مسجد جانا کیوں چھوڑ دیا ہے؟ شیخ کے لیکچر سننا کیوں بند کر دیے؟ اپنا اسلامی کام کیوں روک دیا ہے ؟
۴۔ ظالم حکومت کے خلاف آواز
شہید صدر نےعملی طور پر سیاسی و اجتماعی میدان میں بھی قدم رکھا ۔ عراق کے اندر “الدعوہ اسلامی پارٹی” کی بنیاد رکھی اور وہاں کے مظلومین کے اجتماعی سیاسی حقوق کے حصول کے لیے میدان میں اترے۔ آہستہ آہستہ اس پارٹی کی جڑیں معاشرے میں مضبوط اور مستحکم ہونے لگیں جس سےحکومت وقت نے اپنے لیے خطرہ محسوس کیا۔ حکومت کی طرف سے کئی بار مختلف ا تجاویز آپ کے سامنے رکھے گئے، لیکن سیدصدر نے ہمیشہ انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں شہادت کے لیے آمادہ ہوں۔ انسانیت اور دین کے خلاف میں ایک بھی قدم نہیں اٹھا سکتا۔کئی بار نظر بند، قید اور مختلف قسم کے ٹارچر اور سزاوں کے باوجود آپ کے پائے استقامت میں کسی قسم کی لغزش نہیں آئی اور جب آپ نے بعث پارٹی کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا تو صدام لعین نے فیصلہ کیا کہ آپ کو اب راستے سے ہٹانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔۱۱ شہیدہ آمنہ صدر بھی عراق میں خواتین کی اسلامی تحریک میں پیش قدم تھیں۔ وہ اپنے بھائی سید محمد باقر صدر کی اسلامی تحریک کے نقش قدم پر چل رہی تھیں ۔ ۱۹ رجب ۱۹۷۹ ء میں شہید صدر کو ان کی سیاسی فعالیت کی وجہ سے عراق کی بعثی حکومت نے گرفتار کیا۔ ان کی گرفتاری کے ساتھ ہی بنت الہدی حرم امام علیؑ میں گئیں اور وہاں تقریر کی اور عوام کو ان کے مرجع تقلید کی گرفتاری کی خبر سے آگاہ کیا۔ اس تقریر کے نتیجہ میں نجف کی عوام نے مظاہرہ کیا اور شہید صدر کو آزاد کر دیا گیا۔ اس خبر کے دوسرے شہروں اور ملکوں تک پہنچتے ہی بغداد، کاظمین، فہود، نعمانیہ، سماوہ، لبنان، بحرین اور ایران میں مظاہرے ہوئے۔ حکومت عراق نے ان مظاہروں کے مد نظر صدر خاندان کو ان کے گھر میں نظربند کر دیا۔۱۲
نتیجہ :
شہیدہ بنت الہدیٰ اور شہید باقر صدر کا شمار عصر حاضر کی بہترین شخصیتوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی اسلامی طریقہ کے تحت بسر کی اور دوسروں کے لئے اسوہ حسنہ قرار پائے۔ شہیدہ بنت الہدیٰ اپنی زندگی کے آخر تک اپنے بھائی شہید باقر صدر کے ساتھ ساتھ رہیں اور مکتب شہید صدر کی کامیابی میں ان کا بہترین کردار رہا یہاں تک کہ بالآخر ۲۰ جمادی اولی ۱۴۰۰ ہجری قمری میں بنت الہدی اور ان کے بھائی آیت اللہ سید محمد باقر الصدر عراقی خون خوار صدر کے ہاتھوں گرفتار ہوئےاور سخت شکنجوں کے بعد شہید کردیے گئے ۔
منابع
۱۔ مجموعہ آثار امام خمینی (رہ)، صحیفہ امام، ج۱۲، ص۲۵۳ و ۲۵۴
۲۔ خواتین کے اجتماع میں رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے بیانات ، ۳۰۔۷۔۱۳۷۶
۳۔ محمد رضا نعمانی، سیرہ و راہ شہید بنت الہدیٰ، مقدمہ مولف
۴۔ محمد رضا نعمانی، سیرہ و راہ شہید بنت الہدیٰ، ص۱۵
۵۔ محمد رضا نعمانی، سیرہ و راہ شہید بنت الہدیٰ، ص۱۱
۶۔ سید ذیشان حیدر جوادی، شہید اسلام آیت اللہ السید محمد باقر الصدر حیات اور کارنامے، ص ۴ و ۵
۷۔ سورہ رعد، آیت ۱۱
۸۔ عبد الکریم آل نجف، عبد اللہ امینی، مھدی علیزادہ، آزادی در نگاہ شہید آیت اللہ محمد صدر(رہ)، ص ۱۷
۹۔ الحسون، اعلام النساء المؤمنات، ص۷۸
۱۰۔ جمشیدی و درودی، حکومت اسلامی در اندیشه سیاسی شهید صدر، ص۹
۱۱۔ سعید خان پٹھان، پہلی اور آخری مرتبہ،شہید باقر صدر، اسلام ٹائمز، ۲۰۲۱
۱۲۔ ان. ویلی، نہضت اسلامی شیعیان عراق، ص۱